جنہوں نے یسوع کے بارے میں سنا ہی نہیں، اُن کا کیا؟

یہ سوال انصاف کا سوال ہے، اور سنجیدہ جواب کا حق دار ہے۔ مسیحی روایت اِس پر کیا کہتی ہے، سادہ اردو میں، شائستہ الفاظ میں۔

8 منٹ پڑھنے کا وقت · Envoy Mission اشاعتی ٹیم · اپ ڈیٹ شدہ 29 مئی، 2026

یہ سوال خالص ذہنی نہیں ہے۔ اکثر یہ ایک رشتے کا سوال ہے۔ تمہارے دادا، تمہاری دادی، تمہارے مرحوم چچا، تمہاری ماں — جنہوں نے نیکی سے، ایمانداری سے، اور ادب سے زندگی گزاری، اور جو یا تو یسوع کا نام نہیں سنے، یا اِسے تفصیل سے کبھی نہیں جانا۔ تم سوچتے ہو: اگر مسیحی روایت ٹھیک ہے، تو اُن کا کیا؟

یہ سوال انصاف کا سوال ہے۔ اور انصاف کا سوال مسیحی روایت بھی اِتنا ہی سنجیدگی سے لیتی ہے۔ اِس صفحے پر کوئی فلسفیانہ گول مول جواب نہیں ملے گا۔ یہ صفحہ صرف یہ دکھائے گا کہ مسیحی روایت اِس سوال کے بارے میں خود کیا کہتی ہے، اور اِس سوال کو کم نہیں سمجھتی۔

پہلے کچھ اصطلاحات

اُن قارئین کے لیے جن کا اِس روایت سے کم واسطہ رہا ہے:

  • یسوع پہلی صدی عیسوی میں سرزمینِ فلسطین میں رہنے والا ایک یہودی استاد تھا۔ مسیحی روایت کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک انسانی شکل میں خدا بھی تھا۔ تقریباً ۳۰ عیسوی میں رومی حکومت نے اُسے صلیب نامی سرکاری سزائے موت کے ذریعے قتل کیا۔
  • صلیب اُسی سرکاری قتل کا مسیحی روایت میں مختصر نام ہے۔
  • جی اُٹھنا مسیحی دعویٰ ہے کہ یسوع، اپنے قتل کے بعد، تین دن بعد متعدد گواہوں کو زندہ نظر آیا۔
  • انجیل اُن چار مختصر سوانح حیاتوں کو کہا جاتا ہے جو یسوع کی زندگی کے بارے میں اُس کے پیروکاروں نے لکھیں — متی، مرقس، لوقا، اور یوحنا۔
  • پولس ابتدائی مسیحی رہنماؤں میں سے ایک تھا جس نے مسیحی کتابِ مقدس کے بہت سے خطوط لکھے۔
  • ابراہام بنی اسرائیل کا قدیم باپ تھا، جسے مسیحی، یہودی، اور مسلمان روایتیں سب اپنا قابلِ احترام بزرگ سمجھتی ہیں۔ یسوع سے تقریباً دو ہزار سال پہلے رہا۔

ایک مختصر اور ایماندارانہ جواب

مسیحی روایت اِس سوال کا فوری، صاف جواب نہیں دیتی۔ مسیحی روایت کے بزرگ مفکرین صدیوں سے اِس پر سوچتے رہے ہیں، اور آج بھی مسیحی برادری میں اِس سوال پر مختلف رائے ہیں۔ کوئی ایمانداری سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ ہمیں مکمل واضح ہے۔

مگر مسیحی روایت دو نکتے ضرور یقین سے کہتی ہے۔ پہلا: خدا منصف ہے، اور وہ ایسا کام نہیں کرے گا جو غیر منصفانہ ہو۔ دوسرا: کسی کی نجات کا فیصلہ کرنا انسانوں کا کام نہیں — وہ خدا کا اپنا کام ہے۔ یہ دو نکتے سب کچھ حل نہیں کرتے، مگر یہ ایک ابتدائی بنیاد ضرور دیتے ہیں۔

انصاف کا سوال — مسیحی روایت کا اپنا اعتراف

عہدِ عتیق میں ایک قدیم قصہ ہے۔ ابراہام، جو خدا کا قریبی دوست سمجھا جاتا تھا، خدا سے بات کرتا ہے ایک شہر کے بارے میں جس کی تباہی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ابراہام پوچھتا ہے کہ اگر اُس شہر میں پچاس نیک لوگ ہوں تو کیا ہوگا۔ پھر وہ مولانا کی طرح سودا کرتا ہے — چالیس، پھر تیس، پھر بیس، پھر دس۔

اِس قصے کا اصل نکتہ خود ابراہام کا ایک جملہ ہے۔ وہ خدا سے کہتا ہے: "یہ تجھ سے بعید ہے کہ راست باز کو شریر کے ساتھ ہلاک کرے... کیا تمام دنیا کا منصف انصاف نہ کرے گا؟"

یہ سطر اہم ہے۔ ابراہام جانتا ہے کہ خدا منصف ہے۔ اور وہ یہ بات اپنی محبت کے باوجود کہتا ہے، اپنی ادب کے باوجود کہتا ہے، اپنی جان کی پروا کے باوجود کہتا ہے۔ یہ سوال خود مسیحی روایت کا اپنا سوال ہے: کیا خدا انصاف کرتا ہے؟

اور مسیحی روایت کا جواب ہے: ہاں، خدا انصاف کرتا ہے۔ خدا کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گا جو غیر منصفانہ ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص اپنی پیدائش کی جگہ یا زمانے کی وجہ سے، بغیر کسی موقع کے، سزا پائے۔

پولس کا ایک گہرا نکتہ

پولس نے رومیوں کے نام اپنے خط میں ایک خاص نکتہ اُٹھایا ہے۔ اُس نے لکھا کہ اُن لوگوں کو بھی جنہوں نے یسوع کا براہ راست پیغام نہیں سنا، خدا کے بارے میں کچھ نہ کچھ معلوم ہے — اُن کی فطرت سے، اُن کے ضمیر سے، اور اُس کائنات سے جس میں وہ رہتے ہیں۔

پولس کے الفاظ یہ ہیں: "جب غیر قومیں جو شریعت نہیں رکھتیں، اپنی طبیعت سے شریعت کے کام کرتی ہیں، تو شریعت نہ رکھنے کے باوجود وہ اپنے لیے خود ایک شریعت ہیں۔ چنانچہ وہ شریعت کی باتیں اپنے دلوں پر لکھی ہوئی دکھاتی ہیں، اور اُن کے ضمیر اِس کی گواہی دیتے ہیں، اور اُن کے دل کے خیالات اُن پر یا تو الزام لگاتے ہیں یا اُن کا انصاف کرتے ہیں۔"

یہاں پولس کا نکتہ یہ ہے: ہر انسان کے دل میں ایک ضمیر ہے، جو خدا کا ایک ابتدائی پیغام ہے۔ ضمیر بنیادی نیکی اور بدی کا فرق پہچانتا ہے۔ یہ بھی خدا کی طرف سے ایک طرح کا اطلاع ہے۔

اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ضمیر یسوع کا متبادل ہے۔ مسیحی روایت یہ نہیں کہتی۔ مگر اِس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ خدا کا فیصلہ صرف اِس بات پر نہیں ہوگا کہ کسی نے یسوع کا نام سنا ہے یا نہیں — وہ ہر انسان کی پوری زندگی، اُس کے ضمیر، اور اُس کے دل کی نیت کو دیکھے گا۔

پولس نے ایک اور موقع پر، ایتھنز کے فلسفیوں سے گفتگو میں، کہا تھا: "خدا نے انسانوں کو اِس واسطے بنایا کہ وہ خدا کو ڈھونڈیں، اور شاید ٹٹول کر اُسے پا لیں، اگرچہ وہ ہم میں سے کسی سے بھی دور نہیں۔" مسیحی روایت اِس سے یہ نکالتی ہے: کہ خدا ہر اُس انسان سے دور نہیں جو اُسے ایمانداری سے تلاش کرتا ہے۔

مسیحی روایت میں اِس سوال کے دو مختلف رویے

اب ایمانداری کا تقاضا ہے کہ مسیحی روایت کے اِس سوال پر دو الگ رویے کا ذکر کیا جائے۔

ایک رویہ یہ ہے: کوئی شخص یسوع کے باہر نجات نہیں پا سکتا، اور جنہوں نے اِس کا نام نہیں سنا، اُن کا انجام افسوس ناک ہے۔ یہ رویہ یسوع کے اِس قول پر مبنی ہے: "راہ اور حق اور زندگی میں ہوں۔ کوئی میرے وسیلے کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔"

دوسرا رویہ یہ ہے: یسوع کے ذریعے نجات ضرور آتی ہے، مگر کوئی شخص یسوع کا نام جانے بغیر بھی، اپنے ضمیر اور اپنی نیت کے ذریعے، یسوع کی بخشش میں شریک ہو سکتا ہے — جیسے ابراہام، جسے یسوع کا نام معلوم نہیں تھا، مگر مسیحی روایت کہتی ہے کہ وہ بھی یسوع کی موت کی بنیاد پر بچایا گیا۔ اِس رویے کے قائل ماہرین کہتے ہیں کہ یسوع نجات کا ذریعہ ہے، مگر اِس کا نام معلوم ہونا نجات کی شرط نہیں۔

دونوں رویے مسیحی روایت میں قابلِ احترام ہیں۔ مسیحی برادری میں اِس سوال پر کسی ایک رائے کا اجارہ نہیں۔ کوئی صاف جواب نہ دینا ایمانداری کا حصہ ہے۔

ایک نکتہ جس پر تقریباً ہر مسیحی متفق ہے

تمام مختلف رویوں کے باوجود، ایک نکتہ پر تقریباً ہر مسیحی متفق ہے: کسی کی نجات کا حتمی فیصلہ کرنا انسانوں کا کام نہیں۔ یہ خدا کا کام ہے، اور خدا کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے مرحوم بزرگوں کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں کر سکتے، اور تمہیں کرنا بھی نہیں چاہیے۔ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں۔ تم خدا پر بھروسہ کر سکتے ہو کہ وہ منصف ہے اور وہ کوئی غلط فیصلہ نہیں کرے گا۔

ایک مشہور مسیحی مصنف نے ایک مرتبہ لکھا کہ ہم میں سے ہر ایک یہ امید رکھ سکتا ہے کہ خدا کی رحمت اُس سے زیادہ گہری ہے جتنی ہم سمجھ سکتے ہیں، اور یہ کہ خدا اپنی محبت میں ہر اُس روح کو ڈھونڈ نکالے گا جو سچائی کی طرف ایمانداری سے رخ کر چکی ہے۔

مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ یسوع کا نام جاننا غیر ضروری ہے

ایک ضروری نکتہ یہاں ہے۔ اگر مسیحی روایت یہ مانتی ہے کہ خدا اُن کے ساتھ بھی منصف ہو سکتا ہے جنہوں نے یسوع کا نام نہیں سنا، تو پھر یسوع کا پیغام پھیلانے کی کیا ضرورت ہے؟

اِس کا جواب مسیحی روایت یوں دیتی ہے: یسوع کا پیغام کوئی مقابلہ یا کسی کلب میں شامل کرنے کا اعلان نہیں۔ یہ ایک خوش خبری ہے۔ مسیحی روایت کہتی ہے کہ جسے یسوع کا نام معلوم ہو جاتا ہے، اُس کی زندگی میں ایک نیا پہلو شامل ہوتا ہے — خدا کے ساتھ ایک واضح، ذاتی، اور موجودہ تعلق۔

یہ ایسا ہے جیسے ایک باپ اپنے بچے کا منہ دیکھنے کے لیے آیا ہو، اور بچہ سو رہا ہو۔ خدا کا انصاف بچے کے ساتھ یقیناً برقرار ہے، مگر اِس ملاقات کی خوشی الگ بات ہے۔ مسیحی روایت یسوع کا پیغام پھیلاتی ہے اِس لیے نہیں کہ بغیر اِس کے کوئی نہیں بچ سکتا، بلکہ اِس لیے کہ خدا کا یسوع میں ملنا — اِس روایت کے مطابق — انسان کی زندگی کا بہترین حصہ ہے۔

تمہارے بزرگ، تمہاری ماں، تمہارے دادا

اگر تمہارے دل میں یہ سوال کسی خاص شخص کی وجہ سے ہے — تمہارا کوئی مرحوم رشتہ دار جو نیک تھا، یا ایک ایماندار بزرگ جو یسوع کا نام نہیں جانتا تھا — تو مسیحی روایت تمہیں دو باتیں کہتی ہے۔

پہلی: اُن کا فیصلہ تمہارے ہاتھ میں نہیں، اور نہ کسی اور مسیحی کے ہاتھ میں۔ وہ خدا کے ہاتھ میں ہے، اور خدا اُن کے ساتھ ویسا ہی منصف ہے جیسا تمہارے ساتھ ہے۔ تم اِس پر بھروسہ کر سکتے ہو۔

دوسری: تم اُن کے لیے کوئی پچھتاوا نہیں کر سکتے۔ جو وقت گزر گیا، گزر گیا۔ مگر تم اپنے لیے اِس سوال کا جواب ابھی پا سکتے ہو۔ تم خود یسوع کا نام جانتے ہو، اور تمہارے سامنے یہ امکان کھلا ہے۔ تمہارے بزرگوں کی محبت کا قرض شاید یہ ہے کہ تم اِس سچائی کو اُس سنجیدگی سے دیکھو جس کی وہ مستحق ہے۔

اور اب؟

اگر یہ سوال تمہارے دل پر بھاری ہے، اور تم چاہتے ہو کہ کسی سے ذاتی طور پر بات کرو، تو ہماری چیٹ کھلی ہے۔ یہ مفت ہے، ذاتی ہے، اور تمہاری اپنی زبان میں ہے۔ تم اپنی صورتِ حال بتا سکتے ہو، اور کوئی سنے گا۔ کوئی نام نہیں مانگا جاتا۔ تم اِسے شروع کرتے ہو؛ تم جب چاہو ختم کر دیتے ہو۔

یہ بائبل میں کہاں سے آیا

  • رومیوں ۲:۱۴-۱۶"وہ شریعت کی باتیں اپنے دلوں پر لکھی ہوئی دکھاتی ہیں، اور اُن کے ضمیر اِس کی گواہی دیتے ہیں"
  • اعمال ۱۷:۲۷"کہ وہ خدا کو ڈھونڈیں، اور شاید ٹٹول کر اُسے پا لیں"
  • رومیوں ۱:۱۹-۲۰"خدا کی ذات نظر نہیں آتی، تو بھی دنیا کی پیدائش کے وقت سے اُس کے کاموں کے ذریعے سے معلوم ہو کر صاف دکھائی دیتی ہے"
  • یوحنا ۱۴:۶ — یسوع کا اپنا قول: "راہ اور حق اور زندگی میں ہوں"
  • پیدائش ۱۸:۲۵ — ابراہام کی دعا: "کیا تمام دنیا کا منصف انصاف نہ کرے گا؟"
  • رومیوں ۱۰:۱۴-۱۵"جس کا اُنہوں نے یقین نہیں کیا، اُس کا نام وہ کیسے لیں گے؟"

متعلقہ سوالات

تلاش جاری رکھیں